عمومی سوالات

برابری کا کیا مطلب ہے؟

یہ برابری پارٹی کا بنیادی نظریہ ہے  اس کا مطلب ہے کہ بغیر رنگ نسل مذہب صنف کےہر شخص کو یہ حق حاصل ہےکہ وہ ایک خوشحال اور باعزت  زندگی گزارے اس کے لئے تمام وسائل اور مواقع پر اس کی برابری کی بنیاد پر دسترس ہونی چاہیے 

۔99 فیصد کون ہیں؟

پاکستان میں 99 فیصد لوگ مڈل کلاس اور محنت کش طبقے سے تعلق رکھتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں  جواپنی محنت سے ملک کی سو فیصد دولت کو پیدا کرتے ہیں لیکن ان کونہ تو عزت ملتی ہے اور نہ ہی اپنی پیدا کی ہوئی دولت میں سے مناسب حصہ ملتا ہے ان کی اکثریت بنیادی ضروریات زندگی سے محروم رہتی ہے پیداوار پر بھی ایک دوسرا  طبقہ جونام نہاداشرافیہ پر مشتمل ہے قابض ہےاور ان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے

ایک فیصد کون لوگ ہیں؟

ایک فیصد وہ لوگ ہیں  جو بڑے زمیندار دار،۔سرمایہ دار، کارخانے دار،مافیہ اور بڑے بڑے بزنس کے مالک ہیںگندا ملک کی اشرافیہ بھی کہا جاتا ہے  ہے۔ ہےہ یہ وہ لوگ ہیں جو 99 فیصد کی محنت کی کمائی کے مالک بن جاتے ہیں اور ان کو غریب انپڑھ اور محکوم رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جو اسمبلیوں میں  بیٹھے ہوئے ہیں۔ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں بیٹھ کر اس طرح کی قانون سازی کرتے ہیں جن کا فائدہ صرف ان کو یا ان کے رشتے داروں کو پہنچتا ہے 

کیا آپ  صنعت کو نیشنلائز کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں؟

برابری پارٹی اقتدار سنبھالنے کے بعد  ان سارے معاملات کو دوبارہ سے دیکھے گی۔ ملکی معیشت کو مضبوط کرنے کے لیے کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ مارکیٹ کو بے لگام نہ چھوڑا جائے مارکیٹ کے اوپر حکومتی کنٹرول رکھنا ضروری ہے۔ ملکی صنعت کے ایسے سیکٹر جو عوام کے لیے فائدہ مند نہیں  ہیں اورصرف مزدوروں کے استحصال پر قائم ہیں۔ان کو حکومتی تحویل میں رکھنا ضروری ہے لیکن برابری پارٹی کا چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار آر اور صنعت کو سرکاری تحویل میں لینے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ بلکے اس کو ہر ممکن وسعت دی جائے گی

کیا برابری پارٹی زرعی اصلاحات کرے گی؟

ہم یہ سمجھتے ہیں  کہ زمین انتہائی اہم سرمایہ ہے اوریہاں سے ہماری ضروریات زندگی  جیسے خوراک، پانی، لکڑی ،معدنیات دستیاب ہوتی ہیں ۔ پاکستانی عوام کو  اس کا مالک ہونا چاہیے۔ یہ زمیں ہی ہے جس پر ہم اپنے مکان، مساجد، عبادتگاہیں، اسکول، کالج اور کھیل کے میدان  بناتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ زمین کے معاملات کو اور انتظامات کو سوچ سمجھ کر کیا جانا چاہیے۔برابری پارٹی یقینا زرعی اصلاحات کرے گی اور شہری زمینوں سے لینڈ مافیا کا قبضہ ختم کروائے گی اور دبہاتی ایریا میں  جو زمین بنجر اور بے آباد پڑی ہوئی ہےاسے کسانوں میں تقسیم کرے گی یا حکومتی تحویل میں لے کر کر حکومت کاشت کروائے گی تاکہ کہ تمام آبادی کوخوراک کی فراہمی یقینی بناسکےکیونکہ آبادی کو خوراک کی فراہمی یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اس کو یقینی بنانے کے لئے  تمام مناسب اقدامات کئے جائیں گے۔ پاکستان میں غیر ملکیوں کو زمین خریدنے کی اجازت نہیں ہوگی

آپ کی تعلیمی پالیسی کیا ہوگی؟

تعلیم کو پوری دنیا میں  انسانی حق مانا جاتا ہے جس طرح سے دنیا روزبروز ایک عالمی معیشت کی طرف جارہی اس لیے یہ ضروری ہے کہ قوم  کو جدید تعلیم سے آراستہ کیا جائے آج کل ہمارے ملک میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم ایک کاروبار بن چکا ہےاور اچھی تعلیم کو بہت مہنگے داموں بیچا جاتا ہے۔ اچھی تعلیم صرف کچھ امیر لوگوں کی پہنچ میں ہی رہ گئی ہے ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم کوایک منافع بخش  کاروبار نہ سمجھا جائے بلکہ برابری کی بنیاد پر تمام شہریوں کو فراہم کیا جائے دوسرا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جس کسی عام شخص کو اگر تعلیم میسر ہے تو یہ معیاری نہیں ہے یہ وہ مسائل ہیں جن کو فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے چھوٹی اور لمبی مدت کی منصوبہ بندی  بہت ضروری ہے

مندرجہ ذیل مسائل کو سامنے رکھ کو منصوبہ بندی کی جانی چاہیے۔

۔1 چھوٹے بچوں کے لئے معیاری تعلیم کی فراہمی
۔2 14 سے 30 سال تک کے لوگوں کیلئے تعلیم کی فراہمی  جو سکول چھوڑ چکے ہیں
۔3 14 سے 30 سال تک کے لوگوں کیلئے تعلیم کی فراہمی جو کبھی بھی سکول نہیں گئے
۔4 ان لوگوں کے لئے  فنی تعلیم جو سکول جانا  نہیں چاہتے
۔5 ہمارا آئین 16 سال تک کی عمر کے لیے مفت تعلیم کی ضمانت فراہم کرتا ہے لیکن اس پر کبھی بھی  مناسب طریقے سے عملدرآمد نہیں کیا گیا ۔ برابری پارٹی اس پر اس کی روح کے مطابق عمل کرے گی اور تعلیم کی موجودہ آئینی ضمانت کو  اور وسیع کرے گی۔
۔6 پورے پاکستان کے لیے  یکساں نصاب تعلییم کا تعین
۔7 سرکاری اسکولوں کے معیار تعلیم کو اتنا بلند کرنا کہ پرائیویٹ اسکولوں کی ضرورت ختم ہو جائے
۔8 اساتذہ کی ٹریننگ اور تربیت کا  واضح پلان
۔9 ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے دور دراز علاقوں میں تعلیم کوپہنچانا

برابری پارٹی کی صحت کے بارے میں کیا پالیسی ہے ؟

انسانی حقوق میں صحت کی فراہمی کو ایک اہم مقام حاصل ہے 
یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اپنے تمام شہریوں کو ایک معیاری صحت اور علاج کی کی سہولت فراہم کرے
موجودہ حالات میں میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے  کہ ہمارے غریب لوگوں کو نہ تو صحت کی سہولت میسر ہے  بلکہ جو میسر ہے وہ انتہائی غیرمعیاری ہے جس کی وجہ سے سے انسانی صحت کو فائدے کی بجائے  زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔دہی علاقے میں تو خصوصا یہ مسئلہ بہت گمبیھر ہے کیونکہ ان علاقوں کوہر حکومت نے نظر انداز کیا ہے اور صحت ایک سہولت کی بجائے کاروبار کی شکل اختیار کر گئی ہے۔علاج ایک کاروبار بن چکا ہے اور سمجھا جاتا ہے۔ 
اس مسئلہ کو مجموعی طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے مندرجہ ذیل مندرجہ ذیل کو نئے سرے سے دیکھا جانا چاہیے۔ 
حفظان صحت اور علاج کے متعلق عوام الناس کو آگاہی دینا
خطرناک اور چھوت کی بیماریوں  کے بارے میں پالیسی بنانا
دائمی یا مشکل علاج والی  بیماریوں کے بارے میں پالیسی بنانا
ڈاکٹر نرسز، پیرامیڈیکل اور ٹیکنیشنز  کے لیے تعلیم اور ٹریننگ کا انتظام کرنا۔ موجودہ نظام میں معیارتعلیم کو برقرار رکھنے اور کوالٹی کنٹرول کے  لیے کوئی پالیسی واضح نہیں کی گئی۔
موجودہ صحت کی سہولیات بہت پرانی ہیں ان کو جدید بنانے کی ضرورت ہے
لیبارٹری  اور تشخیص کی سہولیات کو بھی صحت کی پولیسی  کا حصہ ہونا چاہیے اور برابری کی بنیاد پر فراہم ہونا چاہیے
شہری اور دیہاتی علاقے میں صحت کی سہولیات کا جو فرق ہے اس کو کم سے کم کیا جانے کی ضرورت ہے

پاکستان کے تمام شہریوں کو خوراک کی سہولت کی ضمانت کیسے دی جائے گی؟

بھوک ور خوراک کی کمی  ایک عالمی مسئلہ ہے۔ پاکستان میں  تقریبا 50 فیصد بچے بھوک اور خوراک کی کمی کا  شکار ہونے کی وجہ سے مناسب پرورش نہیں پا رہے۔

خوراک کی کمی سے نہ صرف جسمانی  پرورش بلکہ ذہنی اور سماجی پرورش بھی متاثر ہوتی ہے ۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے  اور یہاں خوراک کی کمی کی نہ تو کوئی وجہ ہے اور نہ کوئی بہانہ ۔ خوراک صرف بھوک مٹانے کے لیے ہی نہیں ہونی چاہیے  بلکہ مناسب پرورش کے لئےاس کا متوازن ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ خوراک کی فراہمی کے لیے ہمیں زمین اور کاشت کے بارے میں بہت اچھی پالیسی کی ضرورت  ہوگی ۔ بنجر اور ناکارہ زمین کو کارآمد د بنانا انتہائی اہم ہے اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ مناسب زرعی اصلاحات کی جائیں قابل کاشت زمین کسی اور طرح کے استعمال سے روکاجائے۔ اس کے علاوہ زراعت کو جدید طریقوں پر استوار کرنا بھی انتہائی ضروری ہےتاکہ کم سے کم پانی سے زیادہ سے زیادہ پیداوار لی جاسکے  

زراعت کے لیے پانی مہیا کرنا اور اس کا مناسب انتظام پر توجہ دینا بہت ضروری ہے

خوراک کے پیدا کئے جانے کے بعد  اس کی مناسب تقسیم بھی انتہائی ضروری ہے۔ خوراکخوراک کی کی مناسب تقسیم اتنا ضروری بڑی عمر ہے ہے ہے ہے کہ اس کے لئے لیے ریاست کو کو نہ صرف خوراک کی تقسیم کا ذمہ لینے چاہیے بلکہ کہ اس کی قیمت کی ضمانت دی جانی چاہیے۔ تاکہ کہ پاکستان کے تمام شہریوں کو کو مناسب قیمت پرمہیا کی جا سکے۔   کے

پانی کی کمی ایک بہت بڑا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے اس کو آپ کیسے حل کریں گے؟

پانی کے بغیر زندگی ناممکن ہےہیں فصلوں کو اگانے  اور اپنے استعمال کے لئے پانی کی روزانہ ضرورت پڑتی ہے ۔ہم پانی کے بارے میں ایک واضح پالیسی بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں یہ پالیسی پانی کے موجودہ ذرائع کوا مؤثر طریقے سے استعمال کرنا،ا پانی کے زیاں کو روکنا، کاشتکاری کے لیے کم پانی والےجدید طریقے استعمال کرنا، وغیرہ وغیرہ کا احاطہ کرے گی۔

ہندوستان کے ساتھ ہمارے پانی کی تقسیم کے مامعاملات کا دوبارہ سے جائزہ لیا جائے گا۔زرعی پانی کو کو زرعی پانی کی چوری کو کو روکا جائے گا اور اس پر سے مافیا کا کنٹرول ختم کیا جائے گا ۔پاکستان کے تمام شہریوں کے لیے پینے کا صاف پانی مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے  اس کے علاوہ شہروں میں پینے کے پانی پر مافیا کا کنٹرول ختم کرنا بھی بہت ضروری ہے ، پاکستان کے عوام کو پانی بچانے اور اس کے مناسب استعمال کی آگاہی دی جائےگی۔

پاکستان پر قرضوں کا  موجودہ بھاری بوجھ کیسے ہٹایا جائے گا؟

پاکستان پر بہت زیادہ قرضوں کا بوجھ ہے ۔ جب تک ہم  خود کفیل نہیں ہوجاتے ہم قرضوں کے اس چنگل سے نہیں نکل سکیں گے اور خود کفیل ہونے کے لئے یے ہمیں ایک مضبوط ارادے کے ساتھ پلاننگ کی ضرورت پڑے گی جس کے خدوخال کچھ اس طرح سے ہوں گے
حکومت کو  صنعت خود لگانا پڑے گی
بینکنگ اور قرضہ جات کے قوانین کو و بالکل نئے سرے سے بنانا پڑے گا تاکہ  وہ عام آدمی کے لیے سہولت مہیا کرسکیں۔زرعی اصلاحات کرنا پڑے گیں ۔
تمام غیرپیداواری اور غیر منافع بخش  منصوبوں کو فورا پورا بند کرنا ہو گا۔ 
حکومت کے اخراجات کو کم کرنا انتہائی اہم ہے جس پر کبھی بھی کوئی حکومت توجہ دینے کے لیے تیار نہیں ہوتی
ٹیکس کے نظام میں بھی اصلاحات کی بہت ضرورت ہےتاکہ ٹیکس غریبوں کی بجائے  امیروں سے لیا جا سکے۔

برابری پارٹی کی تجارتی پالیسی کیا ہوگی؟

تجارت کسی بھی معیشت کا بہت اہم جزو ہوتا ہے تجارت کا انحصار بہت ساری چیزوں  پر ہوتا ہے جسے خام مال کی دستیابی۔ پیداواری قوت کا ہونا ۔ ہنرمند افرادی قوت کا ہونا۔ اس کے علاوہ وہ بہت ساری جغرافیائ، سماجی اور سیاسی وجوہات بھی ہوتی ہیں ۔ سرمایہ داری نظام کے زیر اثر ترقی یافتہ ممالک کی بڑی بڑی کمپنیاں یا اور صنعتی اس طرح کے معاہدے کرنا چاہتی ہیں جن سے ان کو بہت زیادہ فائدہ ہو ۔اس کام کے لیے انہوں نے بہت ساری تنظیم بنا رکھی ہیں جسے ایک تنظیم WTO یےجس کا مقصد ترقی یافتہ ممالک کی تجارت کو محفوظ رکھنا ہے ہم ایک ترقی پذیر ملک ہیں ہمیں اس اس توازن کو اپنے حق میں بدلنے کے لیے لیے بہت کچھ کرنا ہوگا۔ ہماری حکومت کو کو سلطنت میں خود سرمایہ کاری کرنی ہوگی اپنی افرادی قوت اور اپنے قدرتی وسائل کو استحصال سے بچانا ہوگا . ہماری ترقی کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ توانائی کی کمی ہے

توانائی کے بحران  سے کیسے نپٹا جا سکتا ہے؟

یہ ایک بہت ہی پیچیدہ  مسئلہ ہے جو ہر شہری کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے  اور ہماری ساری معاشرتی اور معاشی ترقی کا دارومدار بھی اسی پر ہے۔ جب تک یہ  مسئلہ حل نہیں ہوتا اب خود کفیل ہونے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے۔ ریاست کو خود آگے بڑھ کرتوانائی کی پیداوار  اور تقسیم کے اقدام کرنے ہونگے اس کو پرائیویٹ سیکٹر کے ہاتھوں سے نکالنا ہوگا کیونکہ نجی شعبہ صرف اور صرف اپنے منافع کو سامنے رکھتا ہےمنافع کے لیے وہ رشوت اور ہر قسم کے غیر قانونی کے  اقدام کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ ہمیں جدید تحقیق کی اشد ضرورت ہے اور ہماری کوشش ہونی چاہیےکہ اپنا ہی انحصار فوسل فیول پر کم سے کم کردیں اور پاکستان کے ماحول کے مطابق رینیوایبل انرجی کے طریقے ڈھونڈیں ۔

بیروزگاری کا کیسے خاتمہ کسے کیا جائے گا؟

بیروزگاری غربت کی سب سے بڑی وجہ ہے بیروزگاری سرکاری اعداد و شمار میں مناسب طریقے سے رپورٹ بھی نہیں کی جاتی آتی اس کے علاوہ وہ صرف بے روزگاری ہی نہیں بلکہ مناسب روزگار نہ ہونا  بھی زیرِ غور ہونا چاہیے بلکہ اس کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت بھی پیش آئے گی پاکستان میں بہت سے ایسے شعبے ہیں جہاں سے روزگار کے مواقع پیدا کیے جاسکتے لیکن اس کے لیے مناسب تعلیم اور فنی تربیت کی ضرورت پڑے گی ہمارے ملک میں  ہمارا زرعی شعبہ بہت زیادہ روز گار فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن اس کو بھی مناسب طریقے سے زیر استعمال لانا ہوگا ۔ ریاست کو خود انڈسٹری لگانا ہوگی اور اجتماعی کاروبار سیٹ کرنے ہوں گے جو حکومت اور عوام کی مشترکہ ملکیت ہوں اپنے تعلیمی نظام کو اپنی  انڈسٹری اور مارکیٹ کے قریب لانا ہوگا ان کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہونا چاہیے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے آنے کی وجہ سے جو بے روزگاری پیدا ہوئی ہے اس کو ختم کیا جاسکے اور بے روزگار لوگوں کو دوبارہ سے تربیت دے کام کے قابل بنایا جاسکے

برابری پارٹی ٹرانسپورٹ کو حکومت کے ذمہ داری کیوں سمجھتی ہے؟

ذرائع آمدورفت  ہماری روزمرہ زندگی کا بہت اہم حصہ ہے اور صرف ریاست ہی اس قابل ہوتی ہے کہ وہ اس طرح کا انفراسٹرکچر بنا سکے جو عوام کو ٹرانسپورٹ مہیا کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہےکچھ علاقوں میں ٹرانسپورٹ کو منافع پر نہیں چلایا جاسکتا  اور کچھ علاقوں میں تو عوام اتنی غریب ہوتی ہے ہے کہ ان کو ٹرانسپورٹ کے لیے سبسڈی بھی دینی پڑتی ہے ٹرانسپورٹ ٹرانسپورٹ کو مفت فراہم کرنا ہے بغیر منافع کے چلانا ہے، منافع لینا ہے یا سبسڈی دینی ہے ان تمام چیزوں کا فیصلہ حالات اور واقعات کو سامنےرکھ کر کیا جائے گا۔ لیکن ریاست کو اس بات کا ذمہ لینا چاہیےکہ تمام شہریوں کو  ٹرانسپورٹ کی سہولت برابری کی بنیاد پر حاصل ہو۔

تحفظ اور امن وامان کے بارے میں برابری پارٹی کی کیا پالیسی ہے ؟

تحفظ مکمل طور پر ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے اندر امن وامان کو قائم رکھے اور اس طرح کے حالات پیدا کرے کہ کسی کو پرائیویٹ گارڈ رکھنے کی ضرورت محسوس نہ ہو اگر ہم موجودہ الیٹ کلاس یا اشرافیہ کوجو  مختلف قسم کے مافیا پر مشتمل ہے حکومت سے نکال دیں تو بہت سارے جرائم ان کے ساتھ ہی ختم ہو جائیں گے ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو منظم جرائم یا اورگنائزڈ کرایم کے ذمہ دار ہوتے ہیں باقی چھوٹےموٹے جرائم کے لیے ہمارے پاس پولیس اور دوسری ایجنسیاں موجود ہیں  جو ان کا قلع قمع کر سکتی ہیں۔ پرائیویٹ فوجی دستے اور جہادی تنظیموں کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ تحفظ صرف اور صرف صرف ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہیے

ملک میں جلد انصاف کے لیے کیا کیا جائے گا؟

انصاف مہیا کرنا ایک انتہائی پیچیدہ مسئلہ ہے ہمارے ملک میں انصاف مہیا کرنے میں  روپے پیسے کا بہت زیادہ عمل دخل یے جو انصاف کی فراہمی کو تقریبا ناممکن بنا دیتا ہے تو سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ انصاف کی فراہمی میں روپے پیسے کا عمل دخل ختم کیا جائے۔ جرائم کی اقتصادی اور سماجی وجوہات ہوتی ہیں ۔ غربت، استحصال اور چیزوں کا پہنچ سے باہر ہونا بھی جرائم کی وجوہات بنتی ہے ۔  جب تک ان بنیادی وجوہات کو ختم نہ کیا جائے ہم جرائم کو ختم نہیں کر سکتے اور یہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک معاشی انصاف کا بندوبست نہ کیا جائے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں انصاف میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کا قوانین آج کل کی جدید ضروریات کے مطابق نہیں ہے .ملک نو آبادیاتی نظام کی باقیات ہیں ان قوانین کو حکمرانوں نے اپنے مفادات کے لیے رکھا ہوا ہے. ان کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے . عدالتوں کے علاوہ اور کئی طریقوں سے جھگڑوں کو نمٹایا جا سکتا ہےاس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ہےتاکہ عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کیا جا سکے۔انصاف دینے کا یہ مطلب نہیں کہ صرف ملزم کو سزا دی جائے  بلکہ اس کی بہتری اور اس کو ایک اچھا شہری بنانے کے لیے بھی کوشش کی جانی چاہیے ۔اس کو تحقیق اور ماہرین کے زیرنگرانی ہی کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح سے اس مسئلے کا حل صرف اس بات میں ہے کہ موجودہ نظام میں بنیادی تبدیلیاں کی جائیں اور پورے نظام کو نئے سرے سے استوار کیا جائے۔

سرکاری اداروں میں کرپشن کو کیسے روکا جائے گا ؟

سرکاری اداروں میں کرپشن  پاکستان کی حکمران اشرا فیہ کا سب سے بڑا ہتھیار ہے ۔ اشرافیہ کے نمائندے جو پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے ہیں  وہ کرپشن کو پروموٹ کرتے ہیں وہ کرپٹ افسروں کو ایسی پوسٹوں پر بٹھاتے ہیں جہاں سےان کو اپنی کرپشن کرنے میں مدد ملے اور وہ پکڑے جانے سے بھی محفوظ رہیں اور اس کے بدلے میں میں ان سرکاری افسروں کو بھی کرپشن کرنے کی کھلی چھٹی مل جاتی ہے سرکاری اداروں میں میں کرپشن بہت بہت منظم طریقے سے کی جاتی ہے اکثر اوقات کرپشن کے پیسے کے پول بنائے جاتے ہیں جہاں سب لوگ اپنی کرپشن کے پیسے جمع کرتے ہیں اور پھر ان کو تقسیم کیا جاتا ہے اس طرح سے کرپشن یا رشوت ایک اورگنایزر کرائم  کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ اس طرح کی کرپشن کو کو روکنے کے لئے ضروری ہے کہ حکومت کے اعلی ترین افسران ایماندار ہوں کرپشن نہ کرتے ہوں اور اس کو روکنے میں دلچسپی رکھتے ہوں ، منظم کرپشن کے ختم کرنے کے بعد دوسری چھوٹی چھوٹی تو تورشوتوں کو باآسانی ختم کیا جاسکتا ہےلیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اس کو ختم کرنے میں انتہائی سنجیدہ ہو۔

پاکستان میں حقیقی جمہوریت کسے قیام ہو گی؟

ہم سب جانتے ہیں جب سے پاکستان ان بنا ہے  آدھے سے زیادہ وقت امروں کی حکومت رہی ہے لیکن ان حکومتوں میں بھی بھی 99 فیصد  عوام کے مسائل جوں کے توں رہے ہیں ان میں کبھی کوئی فرق نہیں پڑا چاہئے جمہوری حکومت ہو ہو یا آمریت۔ اصل  وجہ یہ ہے کہ جمہوری حکومتوں میں بھی 99 فیصد عوام کی کی کبھی نمائندگی ہی نہیں رہی۔اس کے علاوہ جمہوریت صرف الیکشن میں حصہ لینے سے کہ مطلب ہی نہیں ہے بلکہ  اس کا مطلب یہ ہے عوام کو فیصلے کرنے میں بھی بھی شامل کیا جائے. حقیقی جمہوریت میں الیکشن کے بعد بھی عوامی نمائندے عوام سے جڑے رہتے ہیں اور ان کی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں اور ہر وقت عوام کی  سوچ کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ ایسا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ تمام جمہوری اداروں کو نیچے سے اوپر بنایا جائے نہ کہ اوپر سے نیچے ۔ اس لیے برابری پارٹی سمجھتی ہے کہمقامی حکومتوں کو بہت مضبوط ہونا چاہیے اور وہ اپنے فیصلے خود کر سکیں  اپنے ٹیکس خود اکٹھا کر سکیں اور ان اکٹھے کیے ہوئے پیسوں کو اپنی بھلائی کے لئے خرچ کر سکیں جیسے تعلیم ،صحت، ٹرانسپورٹ وغیرہ۔ قومی اور صوبائی سطح پران کے لیے مختص ہونے والے بجٹ کے بارے میں ان کی آواز ہونی چاہیے اور اس کو سنا بھی جانا چاہیے اور سب سے اہم بات یہ ہے  کہ عوامی نمائندوں کو عوام کے سامنے جواب دہ کرنے کاا کوئی نہ کوئی طریقہ کاروضع ہونا چاہیے ۔ ان کی کارکردگی کو چیک کیا جانا چاہیے یے لیکن یہ سارے کام صرف وہی جماعت کر سکتی ہے جو99 فیصد عوام کی نمائندہ جماعت ہو جیسے کہ برابری پارٹی۔

غربت کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟

برابری پارٹی کی آخری منزل غربت کا خاتمہ ہے اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے  جب دولت کو چند ہاتھوں میں جمع ہونے سے روکا جا سکے اور عوام کی برابری کی بنیاد پر وسائل پر دسترس سستی ہو اور معیشت کو اس طرح  تعمیر کیا جائے کہ وہ عام آدمیوں کی ضرورت کو پورا کریں اس کے لئے ہماری بہت ساری حکمت عملیاں ہوگی بھی جیسے نوجوانوں کو ہنر مند بنانا تاکہ وہ بہتر سے بہتر ملازمت اختیار کرسکیں۔ ملازمت کے نئے مواقع پیدا کرنا کم ازکم تنخواہ کو بڑھا کر جینے کی  آمدنی کے برابر کرنا، زرعی اصلاحات ، امیر لوگوں پر ٹیکس کو زیادہ کرنا اور عام لوگوں کو سوشل سکیورٹی مہیا کرنا

تعلیم ، صحت،  رہائش اور سوشل سکیورٹی اور دوسری سہولیات کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا؟

ایک ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنےتمام شہریوں کے لیے تمام بنیادی سہولیات مہیا کرے  اور یہ بات ریاست کے ایجنڈے پر سب سے اوپر ہونی چاہیے ایک علاقے کے ذرائع آمدنی کو دوسرے علاقے پر خرچ کیا جانا چاہیے تاکہ سب لوگ اچھے  سی سیطریقے سے اپنی زندگی گزار سکیں ۔اس کے علاوہ قرضوں کے بوجھ کو کم کرنا۔امیر لوگوں پر ٹیکس کی شرح زیادہ کرنا ریاست کا آگے بڑھ کر خود ڈسٹری لگانا بینکنگ کے نظام کو نئے سرے سے استوار کرنا نااور امیر لوگوں کے لئے دی جانے والی سبسڈی کو ختم کرنا ایسے اقدامات ہیں جن سے حکومت کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور حکومت یہ تمام سہولیات باآسانی مہیا کر سکے گی۔

اگر پر ہم پاکستان میں کم ازکم آمدنی کو بڑھا کر زیادہ کر دیں گے تو کوئی بھی  پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کرے گا؟

سرمایہ دار کسی ملک میں اسی وقت سرمایہ کاری کرتے ہیں جب ان کو امید ہو کہ وہاں ان کی سرمایہ کاری سے ان کو زیادہ سے زیادہ منافع حاصل ہوگا ان کو اس ملک کے ساتھ یا اس ملک کے عوام کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ہوتی ۔ ہمیں بیرونی سرمایہ داروں کو  صرف ایسی سرمایہ کاری کی اجازت دینی چاہیے جس سے ملک اور قوم کو فائدہ ہو جیسے کہ ملک میں نئ انڈسٹری لگاناجس کی ملک کو ضرورت ہو اور جس کو لگانے سے ملک میں روزگار کے مواقع مہیا ہوں۔کیسی ایسی سرمایہ کاری جس سے ملک میں پہلے سے موجود کاروبار کو نقصان پہنچےاور لوگ بےروزگار ہو جائیں کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے کیونکہ  بیرونی سرمایہ کاری سے لگایا ہوا سرمایہ اور اس پر منافع ملک سے باہر جا سکتا ہے۔ برونی سرمایہ کاروں کو کو مزدوروں کو کم تنخواہ دے کر ان کا استحصال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے آئے پاکستان ایک بہت بڑا ملک ہے اور ایک بڑی منڈی ہے اگر یہاں سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے اور کرپشن کو کنٹرول کیا جائے تو ملک اور قوم کے لیے کارآمد  بیرونی سرمایہ کاری ضرور آئے گی 

برابری پارٹی کی خارجہ پالیسی کیا ہوگی ؟

کسی بھی ملک کی سلامتی اور خوشحالی کا دارومدار یار اس ملک کے اندرامن اس کے  ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات پر مشتمل ہوتے ہیں پاکستان کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ تمام باتیں جو جھگڑے کی بنیاد بن سکتے ہیں ان کو زیر بحث لاکر فورا حل کرنے کی کوشش کرے۔ افغانستان کے ساتھ ڈیورنڈ لاین اور بھارت کے ساتھ کشمیر اور سر کریک ایسےمعاملات کے لئے یہ ضروری ہے کہ پاکستان افغانستان اور  ہندوستان کے ساتھ مذاکرات کرے اور ان معاملات کو حل کرنے کی کوشش کرے ۔ کشمیر کا معاملہ بہت ہی نازک ہے اور بہت سنجیدہ مسئلہ ہے اور اس کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کیا جانا چاہئے صرف یہی ایک طریقہ ہے جس سے ہم ایک لمبے عرصے کے لئے امن کی طرف جا سکتے ہیں پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور کوئی بھی معمولی جھگڑا شدت اختیار کر سکتا ہے اور ایک بڑی جنگ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔امن کے ساتھ ساتھ  ہمارے لئے یہ بات بھی بہت ضروری ہے اگر ہم پر جنگ مسلط کردی کردی جائے تو ہم اپنا دفاع کر سکیں اس لیے ایک مضبوط فوج اوردفاع کا کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔

حکومت میں فوج کا کیا کردار ہونا چاہیے؟

فوج کا کردار دار پاکستان کے آئین میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے پاکستان کی فوج اور اس سے سے منسلک بہت ساری ایجنسیاں پاکستان کے دفاع کے  لئے بہت ضروری ہیں اس لیے حکومت کو ہر صورت میں ایک مضبوط فوج کو سپورٹ کرنا چاہیے اوراس کے لئے مناسب بجٹ مہیا کیا جانا بھی بہت ضروری ہے۔لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک کےمیں بہت ساری دہشت پسند تنظیمیں ہیں جو اپنے مقاصد کے لیے کارروائی کرتی رہتی ہیں۔ان کو  کنٹرول کرنا اور ختم کرنا سول حکومت کے بس سے باہر ہے۔ان کو ختم کرنے کے لیے فوج کو اندرون ملک بھی کارروائی کرنے کی ضرورت پڑتی رہتی ہے اگر ان دہشت پسند تنظیموں کو کو ایک دفعہ ختم کردیا جائے تو ہماری فوج اپنی پوری توجہ ملک کے دفاع پر لگا سکتی ہے

کیا پاکستان میں نئے صوبے بننے چاہئیں؟

موجودہ حالات میں میں پاکستان میں میں چھوٹے صوبوں میں رہنے والے لوگ لوگ ناخوش ہیں  چونکہ حکومتوں نے دیہی علاقے اور چھوٹے صوبوں میں بسنے والے لوگوں کو ترقی میں ان کا مناسب حصہ نہیں دیا گیا اور وہ اپنے علاقوں میں بنیادی ضروریات سے  محروم ہیں اگر تمام دیہی اور شہری علاقوں کو برابر حقوق دیے جائیں اور تمام وسائل پر برابری کی دسترس حاصل ہو تو یہ مسئلہ کبھی بھی کھڑا نہیں ہوگا لیکن اس کے باوجود  ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کسی علاقے میں بسنے والے لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے لئے نئے انتظامی یونٹ بنانے کا مطالبہ کریں نئے صوبے انتظامی بنیادوں پر بنائے جانے چاہیے  نہ کہ زبان اور نسلی بنیادوں پر۔

ایک نئی پارٹی کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی؟

اس وقت پاکستان میں سیاست رو پے پیسے اور ذاتی مفادات کے گرد گھوم رہی ہے  تمام پارٹیوں کو کنٹرول کرنے والے یا تو بڑے زمیندار یا سرمایہ دار ہیں یا پھر مافیا سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں  اس طرح پاکستان کی ایک چھوٹی سی اشرافیہ تمام فیصلے کرتی ہےاور صرف اپنے فائدے کے لیے قانون سازی کرتی ہے ہے یہ لوگ  اپنے الیکشن پہ بہت سارا پیسہ خرچ کرتے ہیں اور پیسے کے زور پر ووٹروں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں اورووٹ لینے کے لیے طرح طرح کے لالچ بھی دیتے ہیں ہیں لیکن الیکشن جیتنے کے بعد  ان لوگوں کاا اس علاقے کے لوگوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا اور وہ اس فکر میں ہوتے ہیں ہیں کہ الیکشن پر لگایا ہوا پیسہ بچہ کیسے واپس لایا جائے بلکہ اس پر منافع بھی کمایا جانا چاہیے اس طرح سے یہ ایک چھوٹا سا گروہ  جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ملک کی حکومت اور ذرائع پیداوار پر قابض ہیں ان حالات کے پیش نظربرابری پارٹی کو مڈل کلاس محنت کش اور نوجوان طبقے کی نمائندگی کے لیے بنایا گیا ہے جو اس ملک کا99 فیصد ہیں گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک منصوبہ بندی کے ذریعے عام شہری کو  سیاست سے دور کر دیا گیا ہے اور ان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا گیا ہے کہ وہ صرف ووٹ دے سکتے ہیں اور ان کا کام عام الیکشن میں کھڑے ہونے والے لوگوں کو سپورٹ کرنا ہے لیکن وہ خود الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتےکیونکہ الیکشن پر بہت زیادہ روپیہ خرچ آتا ہے برابری پارٹی اس سارے سیٹ اپ کو تبدیل کرنا چاہتی ہے ہے اور وہ 99فیصد عوام کو ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنا  چاہتی ہے جب تک ایسا نہیں ہوگا اور مڈل کلاس محنت کش اور نوجوان سیاست حصہ لے کراور لیڈرشپ پوزیشن میں نہیں آئیں گے اور خود اس قابل نہیں ہوں گے کہ مختلف اداروں میں بیٹھ کر اپنے لئے قانون سازی کر سکیں اس وقت تک یہ حالات نہیں بدلیں گے اور پاکستان میں کچھ بھی تبدیل نہیں ہوگا پاکستان برابری پارٹی پاکستانیوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرتی ہے جس سے وہ پاکستان ان میں تبدیلی لا کربرابری  پر مبنی ی معاشرہ قائم کر سکتے ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم موجودہ حکمرانوں کو چیلنج کرنے کے قابل ہوں اور اور اپنی منزل کے کو پانے کے لئے پوری جدوجہد کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں اس کے لئے ہمیں بہت کچھ سیکھنا ہوگا محنت کرنی ہوگی بلکہ سخت محنت کرنی ہوگی اور کوشش کو جاری رکھنا ہوگا۔